ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مرڈیشور میں واٹر ایڈونچر اسپورٹس کو ہائی کورٹ کی ہری جھنڈی

مرڈیشور میں واٹر ایڈونچر اسپورٹس کو ہائی کورٹ کی ہری جھنڈی

Thu, 16 Feb 2017 19:25:01    S.O. News Service

بھٹکل 16؍فروری (ایس او نیوز)ضلع انتظامیہ نے گزشتہ سال جب مرڈیشور کے سمندر میں واٹر ایڈونچر اسپورٹس (پانی کے کھیل) شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھاتو اس کے خلاف دھارواڑہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا تھا۔لیکن اب ہائی کورٹ نے تمام درخواستوں کو خارج کرتے ہوئے ضلع انتظامیہ کو اس ضمن میں آگے بڑھنے کے لئے ہری جھنڈی دکھا دی ہے۔

دراصل مرڈیشور مندر کے بائیں طرف پہلے سے ہی واٹر اسپورٹس کی سہولت فراہم کی جارہی تھی۔ جبکہ دائیں طرف روایتی طرز کی ماہی گیری ہوا کرتی ہے۔ اب ضلع انتظامیہ مندر کے پاس دائیں بائیں دونوں سمتوں میں واٹر اسپورٹس کاٹینڈر دینا چاہتی ہے جس پر ماہی گیروں اور مقامی لوگوں کو اعتراض تھاکہ واٹر اسپورٹس کی وجہ سے ماہی گیری متاثر ہوگی اور مچھیروں کا نقصان ہوگا۔اس کے علاوہ ڈپٹی کمشنر کی طرف سے سیاحت کو فروغ دینے کی نیت سے واٹر اسپورٹس اور دیگر سرگرمیاں جاری کرنے کے لئے جو ساحلی ترقیاتی کمیٹی تشکیل دی تھی اس پر بھی عدالت میں سوال اٹھائے گئے تھے۔اورمرڈیشور کے اوگادی ہری کنت نامی شخص نے مرڈیشور میں واٹر اسپورٹس کے ٹینڈر کو رد کرنے کی مانگ عدالت سے کی تھی۔عدالت نے درخواستوں کی شنوائی کے بعد ٹینڈر کے عمل پر اسٹے لگادیا تھا۔اس وجہ سے گزشتہ چار پانچ مہینوں سے مرڈیشور کے ساحل پر کسی بھی قسم کے واٹر اسپورٹس پر پابندی لگی ہوئی تھی۔اب چونکہ عدالت نے ان درخواستوں کو خارج کردیا ہے اور ٹینڈر کے اقدام کو صحیح اور درست قراردیا ہے۔اس لئے دوبارہ یہ سرگرمیاں تیز ہوجائیں گی۔

یہ بات نوٹ کرنے لائق ہے کہ اس تمام تنازعے میں نقصان مقامی افراد اور ماہی گیروں کا ہوا ہے۔ کیونکہ ضلع انتظامیہ یہاں پر پہلے سے نجی طور پر واٹر اسپورٹس چلانے والے افراد کو موقع دینے کے بارے میں غور کررہی تھی۔ مگر ایک شخص نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا کر ضلع انتظامیہ کے ساتھ مقابلے اور تصادم کا راستہ اپنایاہے۔ اور عدالت میں ضلع انتظامیہ کی جیت ہوجانے کے بعد اب اس بات کی گنجائش بہت کم رہ گئی ہے کہ ضلعی انتظامیہ  مقامی افراد کے ساتھ ہمدردی اور مصلحت کا رویہ اپنائے گی۔ عام لوگوں کا احساس ہے کہ مقامی لوگوں نے اپنے پیر وں پر خود ہی کلہاڑی مارلینے کا کام کیا ہے۔

دوسری طرف ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ مندر کے دائیں جانب کم از کم سو میٹر کی دوری تک ماہی گیری اور مچھیروں کی کشتیوں کی آمد و رفت کے لئے سہولت فراہم کرنے کے بعد واٹر اسپورٹس کی سرگرمیاں چلائی جائیں ورنہ آئندہ دنوں میں یہاں آپسی تصادم اور کشیدگی کے پورے امکانات موجود ہیں۔


Share: